پی ٹی آئی رہنماؤں کو ایک بار پھر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، اسلام آباد ہائی کورٹ احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ
اسلام آباد: عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچے۔ تاہم انہیں اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ اس کے بعد پارٹی نے عدالت کے حکم پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں رہنماؤں نے کئی گھنٹے جیل کے باہر انتظار کیا۔ مگر ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ یہ صورتحال عدالت کے احکامات پر عمل نہ ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال
سلمان اکرم راجہ نے چھ رہنماؤں کی فہرست جیل حکام کو دی۔ اس فہرست میں سید رضا گیلانی، طاہر اقبال، میاں فیاض حسین، قاضی احمد اکبر، مہوش جنجوعہ اور عبدالحکیم زرین شامل تھے۔
اس کے بعد رہنما دوپہر دو بجے جیل پہنچے۔ تاہم حکام نے انہیں انتظار کرنے کو کہا۔ بعد ازاں شام ساڑھے چار بجے تک بھی اجازت نہیں ملی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو ہفتے میں دو بار ملاقات کی اجازت دی جائے۔ یہ ملاقات منگل اور جمعرات کو ہونی چاہیے۔
تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ کئی ماہ سے کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً پارٹی نے عدالتی حکم پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کا ردعمل
شیخ وقاص اکرم نے بلوچستان میں شہید اہلکاروں پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی۔
مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف فورسز قربانیاں دے رہی ہیں۔ تاہم حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
علیمہ خان کی درخواست
دوسری جانب علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں درخواست میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم کو روزانہ 22 گھنٹے تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کی کوئی قانونی اجازت موجود نہیں ہے۔
عمران خان کی صحت
درخواست کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ انہیں علاج کے لیے متعدد بار اسپتال لے جایا گیا۔
نتیجتاً درخواست گزاروں نے کہا کہ یہ صورتحال بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔