پاکستان کا امریکا-ایران ثالثی میں کردار تاریخ کا روشن باب ہے: وزیراعظم شہباز شریف

 

پاکستان کا امریکا-ایران ثالثی میں کردار تاریخ کا روشن باب ہے: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار “تاریخ کا روشن لمحہ” بن چکا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی کروانے اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے دور کی بھی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کو ایک ایماندار ثالث اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی قیادت پاکستان پر مکمل اعتماد کرتی ہے، جو ملک کے لیے ایک بڑا سفارتی اعزاز ہے۔

پاکستان نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی اخبار The Sunday Times کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع کے بعد پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی۔

اس کے بعد 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلی بار براہِ راست مذاکرات ہوئے۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا، تاہم بات چیت کا عمل جاری رہا اور حالات مزید خراب ہونے سے بچ گئے۔

ایران اور امریکا دونوں کو پاکستان پر اعتماد

وزیراعظم نے کہا کہ ایران، امریکی انتظامیہ اور خلیجی ممالک سب پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کی دعوت قبول کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن کا قیام آسان نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے صبر، دانشمندی اور مستقل مزاجی ضروری ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان اب بھی کوشش کر رہا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہو تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی تعریف

وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا، جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم کے مطابق اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے اور امن عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کی۔

افغانستان اور دہشت گردی پر مؤقف

انٹرویو کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی شدید لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر بیرونی حمایت یافتہ گروہ پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو امن، استحکام اور بہتر تعلقات کا پیغام دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی کیونکہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے اور یہ جنگ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے لڑی جا رہی ہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *