تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خلیج میں کشیدگی کم نہ ہو سکی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایران کئی ماہ تک بحری ناکہ بندی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں کے دوران شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں جن کی ذمہ داری ایران نے مسترد کر دی۔ امریکا ایران کے جواب کا انتظار کر رہا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا “پروجیکٹ فریڈم پلس” کے نام سے مزید سخت فوجی اقدامات کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ فوجی آپریشن دوبارہ شروع نہ کرے کیونکہ اسلام آباد مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔
دوسری جانب سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود کئی ماہ تک معاشی دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور ناکہ بندی سے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بندش کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث عوام اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بندش گیارہویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران سے منسلک دو بحری جہازوں کو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی حل کی بات ہوتی ہے، امریکا فوجی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے ڈرون پروگرام اور فوجی سرگرمیوں میں معاونت کرنے والی چینی اور ہانگ کانگ کی کمپنیوں سمیت 10 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلیج میں بڑھتی کشیدگی عالمی تیل منڈی، خطے کے امن اور عالمی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔